الفتح الربانی
كتاب الجنائز— جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ فِي أُمُورٍ تَتَعَلَّقُ بِالْأَرْوَاحِ باب: روح سے متعلقہ مسائل
حدیث نمبر: 3037
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنَّ الْمَيِّتَ يَعْرِفُ مَنْ يَحْمِلُهُ وَمَنْ يُغَسِّلُهُ وَمَنْ يُدْلِي بِهِ فِي قَبْرِهِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو لوگ میت کو اٹھاتے ہیں، اسے غسل دیتے ہیں اور اسے قبر میں اتارتے ہیں، میت ان سب کو پہچانتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ الْمُؤْمِنَ یَنْزِلُ بِہِ الْمَوْتُ وَیُعَایِنُ مَا یُعَایِنُ، فَوَدَّ لَوْخَرَجَتْ۔یَعْنِيْ نَفْسَہُ۔ وَاللّٰہُ یُحِبُّ لِقَائَہٗ، وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ یُصْعَدُ بِرُوْحِہٖ إِلَی السَّمَائِ فَتَأْتِیْہِ أَرْوَاحُ الْمُؤْمِنِیْنَ فَیَسْتَخْبِرُوْنَہٗ عَنْ مَعَارِفِھِمْ مِنْ أَھْلِ الْاَرْضِ، فَإِذَا قَالَ: تَرَکْتُ فُلَانًا فِيْ الدُّنْیَا أَعْجَبَھُمْ ذٰلِکَ، وَإِذَا قَالَ: إِنَّ فُلَانًا قَدْ مَاتَ، قَالُوْا: مَاجِيْئَ بِہِ إِلَیْنَا، …۔)) (مسند البزار: ص۹۲ـ زوائدہ، الصحیحۃ: ۲۶۲۸) یعنی: ’’جب مؤمن پر عالمِ نزع طاری ہوتا ہے تو وہ مختلف حقائق کا مشاہدہ کر کے یہ پسند کرتا ہے کہ اب اس کی روح نکل جائے (تاکہ وہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کر سکے) اور اللہ تعالیٰ بھی اس کی ملاقات کو پسند کرتے ہیں۔ مؤمن کی روح آسمان کی طرف بلند ہوتی ہے اور (فوت شدگان) مؤمنوںکی ارواح کے پاس پہنچ جاتی ہے۔ وہ اس سے اپنے جاننے پہچاننے والوں کے بارے میں دریافت کرتی ہیں۔