الفتح الربانی
كتاب الجنائز— جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ فِي أُمُورٍ تَتَعَلَّقُ بِالْأَرْوَاحِ باب: روح سے متعلقہ مسائل
حدیث نمبر: 3031
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ (يَعْنِي الشَّافِعِيَّ) عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّمَا نَسَمَةُ الْمُؤْمِنِ طَائِرٌ يَعْلُقُ فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَى جَسَدِهِ يَوْمَ يَبْعَثُهُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا نے سیّدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ ، جبکہ وہ مرض الموت میں مبتلا تھے، سے کہا: میرے بیٹے مبشر کو میرا سلام پہنچا دینا۔ سیّدناکعب رضی اللہ عنہ نے کہا: ام مبشر! اللہ تعالیٰ آپ کو معاف کرے، کیا آپ نے نہیں سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے: مسلمان کی روح ایک پرندہ ہوتی ہے، جنت کے درختوں سے کھاتی رہتی ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو اس کے جسم میں لوٹا دے گا۔ اس نے کہا: تم نے سچ کہا، پس میں اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتی ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … حقیقت یہ ہے کہ اچھے مقام میں جمع ہونے والی روحوں کا آپس تعارف ہوتا ہے اور وہ دنیا والوں کے بارے میں باتیں بھی کرتی ہیں، اگلی اور فوائد میں دی گئی روایات سے ایسے ہی ثابت ہوتا ہے۔