الفتح الربانی
كتاب الجنائز— جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ فِي أُمُورٍ تَتَعَلَّقُ بِالْأَرْوَاحِ باب: روح سے متعلقہ مسائل
حدیث نمبر: 3030
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ (يَعْنِي الشَّافِعِيَّ) عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّمَا نَسَمَةُ الْمُؤْمِنِ طَائِرٌ يَعْلُقُ فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَى جَسَدِهِ يَوْمَ يَبْعَثُهُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناکعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن کی روح ایک پرندہ ہوتی ہے، جو جنت کے درختوں سے کھاتی رہتی ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے جس دن اسے اٹھانا ہو گا، اس کی روح کو اس کے جسم میں لوٹا دے گا۔
وضاحت:
فوائد: … اگر ’’یَعْلَقُ‘‘ پڑھیں تو اس کا معنی ’’درخت سے لٹکنے ‘‘ کے ہیں۔ لیکن پہلا معنی زیادہ درست ہے، کیونکہ اس باب کے فوائد میں مذکورہ حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چگنے کی وضاحت کی ہے۔