حدیث نمبر: 3026
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ مَوْتِ الْفَجْأَةِ، فَقَالَ: ((رَاحَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ، وَأَخْذَةُ أَسَفٍ لِلْفَاجِرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اچانک موت کے بارے میں پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ مومن کے لیے تو راحت ہے، لیکن گنہگار کے لیے غضب کی پکڑ ہے۔

وضاحت:
فوائد: … چونکہ مومن ہر وقت موت کو یاد رکھتا ہے اور اس کے لیے مکمل تیار ہوتا ہے، جبکہ گنہگار اور بدکار اپنے گناہوں کی دلدل میں ابھی تک پھنسا ہوتا ہے اور ابھی تک اس نے توبہ کرنے کا سوچا ہی نہیں ہوتا کہ موت اسے دبوچ لیتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 3026
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده واهٍ، عبيد الله بن الوليد الوصافي متروك، وعبد الله بن عبيد الله بن عمير لم يسمع من عائشة۔ ليكن يه حديث شواهد كي بنا پر صحيح هے۔ أخرجه البيھقي: 3/ 379، والطبراني في ’’الاوسط‘‘: 3153، وعبد الرزاق: 6781 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25042 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25556»