الفتح الربانی
كتاب الجنائز— جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ إِذَا أَرَادَ اللَّهُ قَبْضَ عَبْدٍ (بِأَرْضٍ يَجْعَلُ لَهُ فِيهَا حَاجَةً وَمَا جَاءَ فِي مَوْتِ الْفَجْأَةِ) باب: اس کا بیان کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی روح کسی علاقے میں قبض کرنے کا فیصلہ کرتا ہے¤تو اس کے لیے اس میں کوئی ضرورت بنا دیتا ہے¤نیز اچانک موت کا بیان
حدیث نمبر: 3026
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ مَوْتِ الْفَجْأَةِ، فَقَالَ: ((رَاحَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ، وَأَخْذَةُ أَسَفٍ لِلْفَاجِرِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اچانک موت کے بارے میں پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ مومن کے لیے تو راحت ہے، لیکن گنہگار کے لیے غضب کی پکڑ ہے۔
وضاحت:
فوائد: … چونکہ مومن ہر وقت موت کو یاد رکھتا ہے اور اس کے لیے مکمل تیار ہوتا ہے، جبکہ گنہگار اور بدکار اپنے گناہوں کی دلدل میں ابھی تک پھنسا ہوتا ہے اور ابھی تک اس نے توبہ کرنے کا سوچا ہی نہیں ہوتا کہ موت اسے دبوچ لیتی ہے۔