الفتح الربانی
كتاب الجنائز— جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ إِذَا أَرَادَ اللَّهُ قَبْضَ عَبْدٍ (بِأَرْضٍ يَجْعَلُ لَهُ فِيهَا حَاجَةً وَمَا جَاءَ فِي مَوْتِ الْفَجْأَةِ) باب: اس کا بیان کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی روح کسی علاقے میں قبض کرنے کا فیصلہ کرتا ہے¤تو اس کے لیے اس میں کوئی ضرورت بنا دیتا ہے¤نیز اچانک موت کا بیان
حدیث نمبر: 3024
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا يُقَدَّرُ لِأَحَدٍ يَمُوتُ بِأَرْضِ إِلَّا حُبِّبَتْ إِلَيْهِ وَجُعِلَ لَهُ إِلَيْهَا حَاجَةٌ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند)اس میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کسی آدمی کے لیے کسی علاقے میں وفات کا فیصلہ کر لیا جاتا ہے تو اس کو اس آدمی کا پسندیدہ علاقہ بنا دیا جاتا ہے اور اسے اس کی طرف کوئی ضرورت پیش آ جاتی ہے۔