الفتح الربانی
كتاب الجنائز— جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ قِرَاءَةِ يس عِنْدَ الْمُحْتَضَرِ وَمَا جَاءَ فِي شِدَّةِ الْمَوْتِ وَنَزْعِ الرُّوحِ وَتَغْمِيضِ باب: قریب الموت کے پاس سورۂ یس کی تلاوت کرنے، شدتِ موت، روح کے عالَم نزع¤میت کی آنکھیں بند کرنے اور اس کے لیے دعا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3022
عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا حَضَرْتُمْ مَوْتَاكُمْ فَأَغْمِضُوا الْبَصَرَ، فَإِنَّ الْبَصَرَ يَتْبَعُ الرُّوحَ، وَقُولُوا خَيْرًا، فَإِنَّهُ يُؤَمَّنُ عَلَى مَا قَالَ أَهْلُ الْبَيْتِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم اپنے موت شدہ افراد کے پاس آؤ تو ان کی آنکھیں بند کر دیا کرو، کیونکہ نظر روح کا پیچھا کرتی ہے اور خیر والی بات کیا کرو کیونکہ گھر والے اس وقت جو کچھ کہتے ہیں، اس پر آمین کہی جاتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ’’خیر والی بات‘‘ سے مراد دعاو استغفار کرنا ہے، جیسا کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیّدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو ان کی آنکھیں پھٹ چکی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بند کیا اور فرمایا: ’’جب روح قبض کی جاتی ہے تو آنکھ اس کا پیچھا کر تی ہے۔‘‘ اتنے میں لوگ چیخ و پکار کرنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اپنے حق میں بد دعا نہ کرو، خیر کی بات کرو، کیونکہ فرشتے تمہاری بات پر آمین کہتے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی: ((اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِاَبِیْ سَلَمَۃَ وَارْفَعْ دَرَجَتَہٗ فِیْ الْمَھْدِیِّیْنَ وَاخْلُفْہُ فِیْ عَقِبِہٖ فِیْ الْغَابِرِیْنَ وَاغْفِرْ لَنَا وَلَہٗ یَا رَبَّ الْعَالَمِیْنَ، وَافْسَحْ لَہٗ فِیْ قَبْرِہٖ وَنَوِّرْ لَہٗ فِیْہِ۔)) یعنی: ’’اے اللہ! تو ابو سلمہ کو بخش دے،مہدیین میں اس کا درجہ بلند کر دے،اس کی باقی ماندہ اولاد میں اس کا جانشیں بن جا، اے رب العالمین ہمیں اور اس کو بخش دے اور اس کی قبر میں وسعت پیدا فرما اور اس میں اس کے لیے نور پیدا فرما دے۔‘‘ (صحیح مسلم)