الفتح الربانی
كتاب الجنائز— جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ قِرَاءَةِ يس عِنْدَ الْمُحْتَضَرِ وَمَا جَاءَ فِي شِدَّةِ الْمَوْتِ وَنَزْعِ الرُّوحِ وَتَغْمِيضِ باب: قریب الموت کے پاس سورۂ یس کی تلاوت کرنے، شدتِ موت، روح کے عالَم نزع¤میت کی آنکھیں بند کرنے اور اس کے لیے دعا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3019
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَمُوتُ، وَعِنْدَهُ قَدَحٌ فِيهِ مَاءٌ فَيُدْخِلُ يَدَهُ فِي الْقَدَحِ، ثُمَّ يَمْسَحُ وَجْهَهُ بِالْمَاءِ، ثُمَّ يَقُولُ: ((اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى سَكَرَاتِ الْمَوْتِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پیالہ پڑا ہوا تھا، اس میں پانی تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا ہاتھ پیالے میں داخل کرتے، پھر اسے اپنے چہرے پر پھیرتے اور یہ دعا کرتے: اَللّٰہُمَّ أَعِنِّی عَلٰی سَکَرَاتِ الْمَوْتِ ۔ (یا اللہ! موت کی شدتوں میں میری مدد فرما)۔