الفتح الربانی
كتاب الجنائز— جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ قِرَاءَةِ يس عِنْدَ الْمُحْتَضَرِ وَمَا جَاءَ فِي شِدَّةِ الْمَوْتِ وَنَزْعِ الرُّوحِ وَتَغْمِيضِ باب: قریب الموت کے پاس سورۂ یس کی تلاوت کرنے، شدتِ موت، روح کے عالَم نزع¤میت کی آنکھیں بند کرنے اور اس کے لیے دعا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3018
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَمْ يَلْقَ ابْنُ آدَمَ شَيْئًا قَطُّ خَلَقَهُ اللَّهُ أَشَدَّ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ ثُمَّ إِنَّ الْمَوْتَ لَأَهْوَنُ مِمَّا بَعْدَهُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں بھی پیدا کی ہیں، ان میں سے آدم کے بیٹے کے لیے سب سے سخت چیز موت ہے اور پھر موت اپنے سے بعد والے مراحل کی بنسبت بہت آسان بھی ہے۔