حدیث نمبر: 3017
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا حَضَرْتُمُ الْمَيِّتَ أَوْ الْمَرِيضَ فَقُولُوا خَيْرًا، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ))، قَالَتْ: فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أَبَا سَلَمَةَ قَدْ مَاتَ، فَقَالَ: ((قُولِي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلَهُ وَأَعْقِبْنِي مِنْهُ عُقْبَى حَسَنَةً))، قَالَتْ: فَقُلْتُ: فَأَعْقَبَنِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ هُوَ خَيْرٌ لِي مِنْهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی مریض یا قریب الموت کے پاس جاؤ تو خیر والی بات کیا کرو، کیونکہ تم جو کچھ کہتے ہو فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں۔ جب میرے شوہر سیّدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول!ابو سلمہ فوت ہو گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ دعا کر: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ وَلَہُ وَأَعْقِبْنِی مِنْہُ عُقْبًی حَسَنَۃَ (یا اللہ! مجھے اور اس کو بخش دے اور مجھے اس کا بہتر بدلہ عطا فرما۔) پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کے بدلے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عطا کیے جو میرے حق میں اس سے بہتر تھے۔

وضاحت:
فوائد: … خیر والی بات سے مراد دعا و استغفار کرنا، اس باب کی آخری حدیث کی شرح دیکھیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 3017
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 919 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26497 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27030»