الفتح الربانی
كتاب الجنائز— جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ قِرَاءَةِ يس عِنْدَ الْمُحْتَضَرِ وَمَا جَاءَ فِي شِدَّةِ الْمَوْتِ وَنَزْعِ الرُّوحِ وَتَغْمِيضِ باب: قریب الموت کے پاس سورۂ یس کی تلاوت کرنے، شدتِ موت، روح کے عالَم نزع¤میت کی آنکھیں بند کرنے اور اس کے لیے دعا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3015
عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((يَسْ قَلْبُ الْقُرْآنِ، لَا يَقْرَأُهَا رَجُلٌ يُرِيدُ اللَّهَ تَعَالَى وَالدَّارَ الْآخِرَةَ غُفِرَ لَهُ، وَاقْرَأُوهَا عَلَى مَوْتَاكُمْ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سورۂ یٰس قرآن مجید کا دل ہے، جو آدمی اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور آخرت کی کامیابی کے لیے اس کی تلاوت کرتا ہے، اس کو بخش دیا جاتا ہے اور تم فوت ہونے والے کے قریب اس سورت کی تلاوت کیا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت ضعیف ہے، بہرحال سورۂ یس عقائد کے اصول، توحید کے اثبات، ایک سے زیادہ معبودوں کی نفی، قیامت کی علامتوں اور حساب و کتاب کے احوال پر مشتمل ہے۔