حدیث نمبر: 3008
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ غُلامًا يَهُودِيًّا كَانَ يَضَعُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَضُوءَهُ وَيُنَاوِلُهُ نَعْلَيْهِ، فَمَرِضَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ وَأَبُوهُ قَاعِدٌ عِنْدَ رَأْسِهِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَا فُلَانُ! قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ))، فَنَظَرَ إِلَى أَبِيهِ، فَسَكَتَ أَبُوهُ، فَأَعَادَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ إِلَى أَبِيهِ، فَقَالَ أَبُوهُ: أَطِعْ أَبَا قَاسِمٍ، فَقَالَ الْغُلَامُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: ((الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَخْرَجَهُ بِي مِنَ النَّارِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ ایک یہودی لڑکا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے وضو کا پانی رکھ دیا کرتا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جوتے اٹھا کر لا دیتا تھا، وہ بیمار پڑ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے جبکہ اس کاوالد اس کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بچے سے فرمایا: اے فلاں! کہو لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ۔ اس نے اپنے والد کی طرف دیکھا اور اس کا والد خاموش رہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بات دوہرائی۔اس نے پھر اپنے والد کی طرف دیکھا، اس دفعہ اس کے والد نے کہا: ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات مان لو۔ یہ سن کر بچے نے کہا: أَشْہَدُ أَنْ لَّا إلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں۔) جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں سے نکلے تو فرما رہے تھے: اللہ کا شکر ہے، جس نے اسے میرے سبب سے جہنم سے بچا لیا۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی لڑکے پاس گئے، جبکہ وہ بیمار تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ’’کیا تو گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے؟‘‘ اس نے کہا: جی ہاں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 3008
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف، مؤمل سييء الحفظ لكنه متابع أخرجه البخاري: 1356، 5657 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12792، 13977 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12823»