الفتح الربانی
كتاب الجنائز— جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمُحْتَضَرِ وَتَلْقِينِهِ كَلِمَةَ التَّوْحِيدِ وَحُضُورِ الصَّالِحِينَ عِنْدَهُ وَعَرَقِ جَبِينِهِ باب: قریب الموت کو کلمۂ توحید کی نصیحت کرنا، اس کے پاس نیک لوگوں کا حاضر ہونا¤اور اس کی پیشانی کا پسینہ، ان امور کا بیان
حدیث نمبر: 3007
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَادَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ (وَفِي رِوَايَةٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ) فَقَالَ: ((يَا خَالُ! قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ))، فَقَالَ: أَخَالٌ أَمْ عَمٌّ؟ فَقَالَ: ((لَا بَلْ خَالٌ))، قَالَ: فَخَيْرٌ لِي أَنْ أَقُولَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ: ((نَعَمْ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک انصار یا بنو نجار کے ایک آدمی کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: ماموں جان! کہو لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ۔ اس نے کہا: ماموں یا چچا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چچا نہیں، بلکہ ماموں۔ اس نے پوچھا: کیا لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ پڑھنا میرے حق میں بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں ۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو ماموں کہا تھا کیونکہ اس کا تعلق بنو نجار سے تھے اور بنونجار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا عبد المطلب کے ماموں تھے۔