الفتح الربانی
كتاب الجنائز— جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمُحْتَضَرِ وَتَلْقِينِهِ كَلِمَةَ التَّوْحِيدِ وَحُضُورِ الصَّالِحِينَ عِنْدَهُ وَعَرَقِ جَبِينِهِ باب: قریب الموت کو کلمۂ توحید کی نصیحت کرنا، اس کے پاس نیک لوگوں کا حاضر ہونا¤اور اس کی پیشانی کا پسینہ، ان امور کا بیان
حدیث نمبر: 3006
عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ لَنَا مُعَاذٌ فِي مَرَضِهِ: قَدْ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا كُنْتُ أَكْتُمُكُمُوهُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ كَانَ آخِرُ كَلَامِهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
کثیر بن مرہ کہتے ہیں: سیّدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے مرض الموت کے دوران ہم سے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک بات سنی تھی، جسے میں اب تک تم سے چھپاتا رہا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جس آدمی کا آخری کلام لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ ہوگا، اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی۔