الفتح الربانی
كتاب الجنائز— جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمُحْتَضَرِ وَتَلْقِينِهِ كَلِمَةَ التَّوْحِيدِ وَحُضُورِ الصَّالِحِينَ عِنْدَهُ وَعَرَقِ جَبِينِهِ باب: قریب الموت کو کلمۂ توحید کی نصیحت کرنا، اس کے پاس نیک لوگوں کا حاضر ہونا¤اور اس کی پیشانی کا پسینہ، ان امور کا بیان
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنْ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَآهُ (يَعْنِي رَأَى طَلْحَةَ) كَئِيبًا، فَقَالَ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ! لَعَلَّكَ سَاءَكَ إِمْرَةُ ابْنِ عَمِّكَ يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ؟ قَالَ: لَا، وَأَثْنَى عَلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَلَٰكِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَا يَقُولُهَا عَبْدٌ عِنْدَ مَوْتِهِ إِلَّا فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَتَهُ وَأَشْرَقَ لَوْنُهُ))، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ(تیسری سند) سیّدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے غمگین دیکھ کر پوچھا: ابو محمد! کیا بات ہے؟ کیا آپ کو اپنے چچا زاد بھائی سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی امارت ناگوار گزری ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ پھر انھوں نے سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تعریف کی اور کہا کہ میری پریشانی کا سبب یہ ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ جو آدمی فوت ہوتے وقت وہ کلمہ پڑھ لیتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کی تکلیف دور کر دیتا ہے اور اس کا رنگ نکھر آتا ہے، … ۔ الحدیث۔