الفتح الربانی
كتاب الجنائز— جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمُحْتَضَرِ وَتَلْقِينِهِ كَلِمَةَ التَّوْحِيدِ وَحُضُورِ الصَّالِحِينَ عِنْدَهُ وَعَرَقِ جَبِينِهِ باب: قریب الموت کو کلمۂ توحید کی نصیحت کرنا، اس کے پاس نیک لوگوں کا حاضر ہونا¤اور اس کی پیشانی کا پسینہ، ان امور کا بیان
حدیث نمبر: 3004
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَا أُخْبِرُكَ بِهَا، هِيَ الْكَلِمَةُ الَّتِي أَرَادَ بِهَا عَمَّهُ شَهَادَةُ (أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ)، قَالَ: فَكَأَنَّمَا كُشِفَ عَنِّي غِطَاءٌ، قَالَ: صَدَقْتَ، لَوْ عَلِمَ كَلِمَةً هِيَ أَفْضَلُ مِنْهَا لَأَمَرَهُ بِهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
( دوسری سند) سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ کو وہ کلمہ بتاتا ہوں، یہ وہ کلمہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چچا سے بھی کہلوانا چاہا تھا، یعنی اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ یہ سن کر سیّدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا مجھ سے پردہ چھٹ گیا۔ آپ درست کہہ رہے ہیں، اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک کوئی اور کلمہ اس سے افضل ہوتا تو اس کے پڑھنے کا حکم فرماتے۔