الفتح الربانی
كتاب الجنائز— جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمُحْتَضَرِ وَتَلْقِينِهِ كَلِمَةَ التَّوْحِيدِ وَحُضُورِ الصَّالِحِينَ عِنْدَهُ وَعَرَقِ جَبِينِهِ باب: قریب الموت کو کلمۂ توحید کی نصیحت کرنا، اس کے پاس نیک لوگوں کا حاضر ہونا¤اور اس کی پیشانی کا پسینہ، ان امور کا بیان
حدیث نمبر: 3002
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ قَوْلَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابو سعید خدر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے قریب الموت لوگوں کو لَا إلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کی تلقین کیا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … سیّدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَقِّنُوْا مَوْتَاکُمْ: لَاإِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، فَإِنَّ نَفْسَ الْمُؤْمِنِ تَخْرُجُ رَشْحًا، وَنَفْسُ الْکَافِرِ تَخْرُجُ مِنْ شِدْقِہٖ کَمَا تَخْرُجُ نَفْسُ الْحِمَارِ۔)) (المعجم الکبیر للطبرانی: ۳/ ۷۷/ ۱، الصحیحۃ: ۲۱۵۱) یعنی: ’’قریب الموت لوگوںکو ’’لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ‘‘ کی تلقین کیا کرو، مؤمن کا نفس پسینے کے ٹپکنے کی طرح نکلتا ہے جبکہ کافر کا نفس گدھے کے سانس لینے کی طرح اس کی باچھوں سے نکلتا ہے۔‘‘