حدیث نمبر: 3001
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: تُوُفِّيَ رَجُلٌ بِالْمَدِينَةِ فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((يَا لَيْتَهُ مَاتَ فِي غَيْرِ مَوْلِدِهِ))، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ: لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا تُوُفِّيَ فِي غَيْرِ مَوْلِدِهِ قِيسَ لَهُ مِنْ مَوْلِدِهِ إِلَى مُنْقَطَعِ أَثَرِهِ فِي الْجَنَّةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مدینہ میں ایک شخص فوت ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور فرمایا: کاش کہ یہ آدمی اپنے جائے پیدائش کے علاوہ کہیں اور فوت ہوتا۔ ایک آدمی نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی کسی دوسرے شہر میں فوت ہوتا ہے تو اس کے شہر سے مقامِ وفات تک کے برابر جگہ اسے جنت میں عطا کی جاتی ہے۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہواکہ پردیس کی موت قابل افسوس نہیں بلکہ میت کے حق میں بہتر ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 3001
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، حيي بن عبد الله المعافري ضعيف أخرجه النسائي: 4/ 7، وابن ماجه: 1614 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6656 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6656»