حدیث نمبر: 3000
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ أَتَتْ عَلَيْهِ سِتُّونَ سَنَةً، فَقَدْ أَعْذَرَ اللَّهُ إِلَيْهِ فِي الْعُمُرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کی عمر ساٹھ سال ہو جائے، اللہ تعالیٰ اس کا عمر کے بارے میں عذر ختم کر دے گا۔

وضاحت:
فوائد: … ساٹھ سال عمر پانے والے لوگوں کو متنبہ کیا جا رہا ہے کہ یہ عمر اتنا لمبا پیریڈ ہے کہ اس میں سبق حاصل کرنے والے اپنے انجام بخیر کے اسباب جمع کر سکتے ہیں۔ اگر کسی شخص کے پاس حج وعمرہ کے اسباب ہوں، لیکن اس نے اِس عمر تک یہ فریضہ ادا نہ کیا ہو تو اسے سب سے پہلے اسی فریضہ کی تکمیل کرنی چاہیے۔ اس حدیث سے یہ اشارہ بھی ملتاہے کہ ساٹھ سال زندگی ختم ہونے کا مظنہ ہے، اس عمر کے بعد اچھے انداز میں موت کا انتظار ہونا چاہیے، ویسے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أَعْمَارُ أُمَّتِیْ مَا بَیْنَ السِّتِّیْنَ اِلَی السَّبْعِیْنَ وَأَقَلُّھُمْ مَنْ یَجُوْزُ ذَالِکَ۔)) (ترمذی:) یعنی: ’’میری امت کی عمریں ساٹھ سے ستر برس کے درمیان درمیان ہیں، کم ہی لوگ ہیں جو اس مقدار سے تجاوز کریں گے۔‘‘
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 3000
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6419 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:7713 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 824»