حدیث نمبر: 2997
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ: ((مَنْ طَالَ عُمُرُهُ وَحَسُنَ عَمَلُهُ))، قَالَ: فَأَيُّ النَّاسِ شَرٌّ؟ قَالَ: ((مَنْ طَالَ عُمُرُهُ وَسَاءَ عَمَلُهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا: اے اللہ کے رسول ! لوگوں میں سب سے بہتر آدمی کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کی عمر طویل ہو اور عمل اچھا ہو۔ اس نے پھر پوچھا: لوگوں میں سب سے برا آدمی کونسا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کی عمر طویل ہو اور عمل برا ہو۔

وضاحت:
فوائد: … درج ذیل حدیث ِ مبارکہ سے لمبی زندگی کی قیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ: أَنَّ رَجُلَیْنِ مِنْ بَلِیٍّ، وَھُوَ حَیٌّ مِنْ قُضَاعَۃَ، قُتِلَ أَحَدُھُمَا فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ، وَاُخِّرَ الآخَرُ بَعْدَہٗ سَنَۃً ثُمَّ مَاتَ، قَالَ طَلْحَۃُ: فَرَأَیْتُ فِی الْمَنَامِ الْجَنَّۃَ فُتِحَتْ، فَرَأَیْتُ الآخَرَ مِنَ الرَّجُلَیْنِ دَخَلَ الْجَنَّۃَ قَبْلَ الأَوَّلِ، فَتَعَجَّبْتُ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ ذَکَرْتُ ذٰلِکَ، فَبَلَّغْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِVفَقَالَ لِی رَسُوْلُ اللّٰہِV: ((أَلَیْسَ قَدْ صَامَ بَعْدَہٗ رَمَضاَنَ، وَصَلّٰی بَعْدَہٗ سِتَّۃَ آلآفِ رَکْعَۃٍ، وَکَذاَ وَکَذَا رَکْعَۃً لِصَّلَاۃِ السُّنَّۃِ۔)) (رواہ البیھقی فی ’’الزھد‘‘: ۷۳/۲، وأخرج ابن ماجہ: ۳۹۲۵، وابن حبان: ۲۴۶۶ نحوہ، لکن أتم منہ۔ وکذا رواہ احمد: ۱/ ۱۶۱، ۱۶۳، الصحیحۃ: ۲۵۹۱) ’’طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قضاعہ کے بلی قبیلے کے دو آدمی تھے، ان میں ایک شہید ہو گیا اور دوسرااس سے ایک سال بعد فوت ہوا۔ طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے خواب آیا کہ جنت کا دروازہ کھولا گیا اور بعد میں فوت ہونے والا، شہید ہونے والے سے پہلے جنت میں داخل ہوا، مجھے بڑا تعجب ہوا۔ جب صبح ہوئی تو میں نے اس خواب کا تذکرہ کیا اور بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا اس نے (ایک سال پہلے شہید ہونے والے کے بعد)رمضان کے روزے نہیں رکھے اور ایک سال کی (فرضی نمازوں کی) چھ ہزار اور اس سے زائد اتنی اتنی نفل رکعتیں ادا نہیں کیں؟‘‘
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 2997
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، وھذا اسناد فيه علي بن زيد بن جدعان أخرجه الترمذي: 2330 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20415، 20491 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20686»