حدیث نمبر: 2996
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: جَاءَ بِلَالٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَاتَتْ فُلَانَةُ وَاسْتَرَاحَتْ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: ((إِنَّمَا يَسْتَرِيحُ مَنْ دَخَلَ الْجَنَّةَ (وَفِي رِوَايَةٍ: مَنْ غُفِرَ لَهُ)))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں عورت فوت ہو گئی ہے اور راحت پا گئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصے میں آگے اور فرمایا: صرف اور صرف راحت تو وہ پاتا ہے جو جنت میں داخل ہوتا ہے، دوسری روایت میں ہے: جس کو بخش دیا جاتا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … ہم کسی مرنے والے کسی نیک یا بد کے بارے میں یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ راحت پا گیا ہے یا عذاب میں پھنس گیا ہے، کیونکہ اس چیز کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہوتا ہے کہ حقیقت میں کون نیک ہے، کون برا ہے اور کس کی نیکیاں قبول نہیں ہوئیں اور کس کی برائیاں معاف کر دی گئی ہیں۔ ہم حسن ظن یا سوئے ظن کی روشنی میں اپنے اندازے کا اظہار کر سکتے ہیں، نہ کہ حتمی نتیجے کا۔ بہرحال مرنے کے بعد جنت میں داخل ہونے والا حقیقی راحت پا جاتا ہے اور جس کو جنت نہیں ملتی وہ بڑی مصیبت سے دوچار ہو جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن ہستیوں کا نام لے کر ان کے جنتی ہونے کی وضاحت کر دی، ان کے بارے میں بالیقین یہ کہنا درست ہے کہ وہ راحت پا گئی ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 2996
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، عبد الله بن لھيعة، وان كان يحيي من قدماء أصحابه سماع قتيبة منه، تفرد برفعه، ومرسله ھو الصحيح أخرجه الطبراني في ’’الأوسط‘‘: 9375 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:24399 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24903»