الفتح الربانی
كتاب الجنائز— جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ كَرَاهَةِ تَمَنِّي الْمَوْتِ وَفَضْلِ طُولِ الْعُمُرِ مَعَ حُسْنِ الْعَمَلِ باب: موت کی تمنا کے مکروہ ہونے اور نیک عمل والی طویل عمر کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 2994
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ حَارِثَةَ، قَالَ أَتَيْنَا خَبَّابًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَعُودُهُ فَقَالَ: لَوْ لَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ)) لَتَمَنَّيْتُهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
حارثہ کہتے ہیں: ہم سیّدنا خباب رضی اللہ عنہ کی تیمارداری کرنے کے لیے گئے، انہوں نے کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا تو میں ضرور موت کی تمنا کرتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی ہر گز موت کی تمنا نہ کرے۔
وضاحت:
فوائد: … اس وقت سیّدنا خباب رضی اللہ عنہ شدید زخمی تھے اور جسم کے سات مقامات پر ان کو داغا گیا تھا، جس کی وجہ سے وہ سخت تکلیف سے دوچار تھے، لیکن صبر کا دامن تھامے رکھا۔