الفتح الربانی
كتاب الجنائز— جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ كَرَاهَةِ تَمَنِّي الْمَوْتِ وَفَضْلِ طُولِ الْعُمُرِ مَعَ حُسْنِ الْعَمَلِ باب: موت کی تمنا کے مکروہ ہونے اور نیک عمل والی طویل عمر کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 2993
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: لَا تَمَنَّوْا الْمَوْتَ فَإِنَّ هَوْلَ الْمُطَّلَعِ شَدِيدٌ، وَإِنَّ مِنَ السَّعَادَةِ أَنْ يَطُولَ عُمْرُ الْعَبْدِ وَيَرْزُقَهُ اللَّهُ الْإِنَابَةَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم موت کی تمنا نہ کیا کرو،کیونکہ (موت کے بعد والے) امور کی گھبراہٹ بھی بڑی سخت ہے، خوش بختی یہ ہے کہ بندے کی عمر لمبی ہو اور اللہ تعالیٰ اسے توبہ کرنے کی توفیق دے دے۔
وضاحت:
فوائد: … ’’الْمُطَّلَعِ‘‘ سے مراد وہ امور ہیں جس پر انسان برزخی زندگی میں اور پھر قیامت کے دن اطلاع پائے گا، جبکہ وہ امور، دنیاوی احوال کے مقابلے میں کئی گنا سخت ہیں، یہی وجہ ہے کہ دنیوی پریشانیوں سے نجات پانے کے لیے خود کشی کرنے والا بڑے عذاب میں پھنس جاتا ہے، الّا یہ کہ اللہ تعالیٰ معاف کر دے۔ لہٰذا ہمیں موت کو دنیاوی آزمائشوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں سمجھنا چاہیے اور زندگی کو بڑی غنیمت سمجھ کر اعمال صالحہ کی کثرت اور رجوع الی اللہ کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔