حدیث نمبر: 2992
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَلَسْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَّرَنَا وَرَقَّقَنَا فَبَكَى سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَكْثَرَ الْبُكَاءَ فَقَالَ: يَا لَيْتَنِي مِتُّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَا سَعْدُ! أَعِنْدِي تَتَمَنَّى الْمَوْتَ؟)) فَرَدَّدَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: ((يَا سَعْدُ! إِنْ كُنْتَ خُلِقْتَ لِلْجَنَّةِ فَمَا طَالَ عُمُرُكَ أَوْ حَسُنَ مِنْ عَمَلِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں وعظ و نصیحت کی اور اتنی رقت آمیز گفتگو فرمائی کہ سیّدناسعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ رونے لگے اور خوب روئے، بیچ میں انھوں نے یہ بھی کہا: کاش میں مر چکا ہوتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سعد! کیا تم میرے پاس موت کی تمنا کر رہے ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات تین بار دہرائی۔ پھر فرمایا: اے سعد! اگر تم جنت کے لیے پیدا کیے گئے ہو تو تمہاری عمر جس قدر طویل ہوگی یا اعمال جس قدر اچھے ہوں گے وہ اتنے ہی تمہارے حق میں بہتر ہوں گے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 2992
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدا من أجل علي بن يزيد الألھاني أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 7870 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:22293 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22649»