الفتح الربانی
كتاب الجنائز— جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ كَرَاهَةِ تَمَنِّي الْمَوْتِ وَفَضْلِ طُولِ الْعُمُرِ مَعَ حُسْنِ الْعَمَلِ باب: موت کی تمنا کے مکروہ ہونے اور نیک عمل والی طویل عمر کی فضیلت کا بیان
عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى الْعَبَّاسِ وَهُوَ يَشْتَكِي فَتَمَنَّى الْمَوْتَ فَقَالَ: ((يَا عَبَّاسُ! يَا عَمَّ رَسُولِ اللَّهِ! لَا تَتَمَنَّ الْمَوْتَ إِنْ كُنْتَ مُحْسِنًا تَزْدَادُ إِحْسَانًا إِلَى إِحْسَانِكَ خَيْرٌ لَكَ وَإِنْ كُنْتَ مُسِيءًا فَإِنْ تُؤَخَّرْ تَسْتَعْتِبْ خَيْرٌ لَكَ فَلَا تَتَمَنَّ الْمَوْتَ)) (وَفِي رِوَايَةٍ: وَإِنْ كُنْتَ مُسِيءًا فَإِنْ تُؤَخَّرْ تَسْتَعْتِبْ مِنْ إِسَائَتِكَ خَيْرٌ لَكَ)سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیّدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے، جبکہ وہ مریض تھے اور موت کی تمنا کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عباس! اے رسول اللہ کے چچا! موت کی تمنا مت کرو، اگر تم نیک ہو تو زندہ رہ کر نیکیوں میں اضافہ کرنا تمہارے حق میں بہتر ہے اور اگر برے ہو تو زندہ رہنے کی صورت میں توبہ کر سکتے ہو، لہٰذا یہ بھی تمہارے حق میں بہتر ہے۔ پس موت کی خواہش نہ کرو۔ ایک روایت میں ہے: اگر تم بدعمل ہو تو موت کی تاخیر کی صورت میں بدعملی سے توبہ کر نا تمہارے لیے بہترہے۔