حدیث نمبر: 2990
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ، إِمَّا مُسِيءٌ فَيَسْتَعْفِرُ أَوْ مُحْسِنٌ فَيَزْدَادُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

(دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی موت کی تمنا نہ کرے، کیونکہ اگر وہ گنہگار ہے تو اللہ سے گناہوں کی معافی مانگ لے گا اور اگر نیک ہے تو نیکیوں میں اضافہ کر لے گا۔

وضاحت:
فائدہ: … عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ ہر مسلمان بالآخر نیکیوں میں اضافے اور برائیوں میں کمی کی صورت میں زندگی سے مستفید ہو جاتا ہے، ہزاروں لوگوں کی زندگیوں کا مشاہدہ کیا ہے کہ انتہائی برے کردار اور عیاشی کے بعد ان کو رجوع الی اللہ نصیب ہو جاتا ہے، چہرے پر سفید بالوں والی سنت نظر آنے لگتی ہے، ذہن تبدیل ہو جاتے ہیں، اخلاق میں نرمی آ جاتی ہے، بسا اوقات حج و عمرہ کی سعادت بھی مل جاتی ہے۔ علی ہذا القیاس۔بہرحال چند لوگ ایسے بھی نظر آ سکتے ہیں، جو اپنی زندگی سے اس طرح نقصان اٹھاتے کہ ان کی پہلی عمر میں نیکی کا رجحان ہوتا ہے اور پچھلی عمر میں برائی کا اور وہ دن بدن فرائض و واجبات میں کمی کر کے اور حرام امور کا ارتکاب کر کے اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے مقروض بنتے رہتے ہیں۔ لیکن اکثریت کو دیکھ کر نفع یا نقصان کا حکم لگایا جاتا ہے، نہ کہ چند افراد کو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 2990
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10679»