حدیث نمبر: 2988
عَنْ أَنَسَ بْنِ مَالِكَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ((لَا يَتَمَنَّ أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ مِنْ ضُرٍّ أَصَابَهُ، فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي مَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی کسی تکلیف کی بنا پر موت کی تمنا نہ کرے، اگر کسی کا اس کے علاوہ اور کوئی چارۂ کار نہ ہو تو وہ یہ دعا کرے: اَللّٰہُمَّ أَحْیِنِی مَا کَانَتِ الْحَیَاۃُ خَیْرًا لِی، وَتَوَفَّنِی مَا کَانَتِ الْوَفَاۃُ خَیْرًا لِّیْ۔ (اے اللہ! مجھے اس وقت تک زندہ رکھ، جب تک میرے لیے زندہ رہنا بہتر ہو اور اس وقت مجھے فوت کر دینا، جب میرے لیے فوت ہونا بہتر ہو۔)۔

وضاحت:
فوائد: … ہر قسم کی جسمانی اور روحانی پریشانی پر صبر کرنا چاہیے اور کسی دکھ کی بنا پر موت کی تمنا نہیں کرنی چاہیے، اگر کسی پر اس کا دکھ زیادہ ہی غلبہ پا لے تو وہ حدیث میں مذکورہ دعا پڑھا کرے۔ کسی تکلیف کے بغیر نیکی والی زندگی اور حسنِ انجام والی موت کا سوال کرنا پسندیدہ عمل ہے، اس حدیث کا مصداق وہ شخص ہے جو کسی مصیبت سے تنگ آ کر موت کو اپنے لیے بہتر سمجھنے لگ جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 2988
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5671، ومسلم: 2680، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:13020، 13165 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13197»