الفتح الربانی
كتاب الجنائز— جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي حُسْنِ الظَّنِّ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَحُسْنِ الْخَاتِمَةِ باب: اللہ تعالیٰ کے بارے میں حسن ظن رکھنے اور حسن خاتمہ کا بیان
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَسْنَدْتُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى صَدْرِي، فَقَالَ: ((مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ، خُتِمَ لَهُ بِهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ صَامَ يَوْمًا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ خُتِمَ لَهُ بِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ خُتِمَ لَهُ بِهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ))سیّدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے سینے سے لگا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آسرا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کے چہرے کو چاہنے رضا کے لیے لَا إلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہااور اسی پر اس کا خاتمہ ہوا تو وہ جنت میں جائے گا،جس نے اللہ تعالیٰ کے چہرے کو چاہنے کے لیے ایک روزہ رکھا اور اسی پر اس کا خاتمہ ہوا تو وہ بھی جنت میں جائے گا اور جس نے اللہ تعالیٰ کے چہرے کو چاہنے کے لیے صدقہ کیا اور اسی پر اس کا خاتمہ ہوا تو وہ بھی جنت میں جائے گا۔