حدیث نمبر: 2987
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَسْنَدْتُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى صَدْرِي، فَقَالَ: ((مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ، خُتِمَ لَهُ بِهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ صَامَ يَوْمًا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ خُتِمَ لَهُ بِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ خُتِمَ لَهُ بِهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے سینے سے لگا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آسرا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کے چہرے کو چاہنے رضا کے لیے لَا إلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہااور اسی پر اس کا خاتمہ ہوا تو وہ جنت میں جائے گا،جس نے اللہ تعالیٰ کے چہرے کو چاہنے کے لیے ایک روزہ رکھا اور اسی پر اس کا خاتمہ ہوا تو وہ بھی جنت میں جائے گا اور جس نے اللہ تعالیٰ کے چہرے کو چاہنے کے لیے صدقہ کیا اور اسی پر اس کا خاتمہ ہوا تو وہ بھی جنت میں جائے گا۔

وضاحت:
فوائد: … صرف ایک سبق ملتا ہے کہ اعمالِ صالحہ میں حسب ِ استطاعت تسلسل ہو اور ان کا مقصود اللہ تعالیٰ کی خوشنودی و رضامندی کا حصول ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 2987
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وھذا اسناد فيه انقطاع بين نعيم بن أبي ھند و حذيفة أخرجه ابن ابي شيبه في ’’مسنده‘‘: 8222، والبيھقي في ’’الأسماء والصفات‘‘: صـ 303، والبزار في ’’مسنده‘‘: 2854 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23324 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23713»