الفتح الربانی
كتاب الجنائز— جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي حُسْنِ الظَّنِّ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَحُسْنِ الْخَاتِمَةِ باب: اللہ تعالیٰ کے بارے میں حسن ظن رکھنے اور حسن خاتمہ کا بیان
حدیث نمبر: 2985
عَنْ أَبِي عِنَبَةَ الْخَوْلَانِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا عَسَلَهُ))، قِيلَ: وَمَا عَسَلَهُ؟ قَالَ: ((يَفْتَحُ اللَّهُ لَهُ عَمَلًا صَالِحًا قَبْلَ مَوْتِهِ، ثُمَّ يَقْبِضُهُ عَلَيْهِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابو عنبہ خولانی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتاہے تو اسے لوگوں میں محبوب بنا دیتا ہے۔ کسی نے کہا کہ محبوب بنا دینے سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اسے مرنے سے پہلے نیک عمل کرنے کی توفیق دے دیتا ہے، پھر اسی حالت پر اس کو موت دے دیتا ہے۔