الفتح الربانی
كتاب الجنائز— جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي حُسْنِ الظَّنِّ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَحُسْنِ الْخَاتِمَةِ باب: اللہ تعالیٰ کے بارے میں حسن ظن رکھنے اور حسن خاتمہ کا بیان
حدیث نمبر: 2984
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ الْخُزَاعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا اسْتَعْمَلَهُ))، قِيلَ: وَمَا اسْتَعْمَلَهُ؟ قَالَ: ((يُفْتَحُ لَهُ بَيْنَ يَدَيْ مَوْتِهِ حَتَّى يَرْضَى عَنْهُ مَنْ حَوْلَهُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناعمرو بن حمق خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو وہ اسے استعمال کرتا ہے۔ کسی نے پوچھا: اسے استعمال کرتا ہے، اس سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے لیے اس کی موت سے پہلے (اچھے اعمال) کھول دیئے جاتے ہیں، یہاں تک کہ اس کے ارد گرد والے لوگ اس سے راضی ہو جاتے ہیں۔