الفتح الربانی
كتاب الجنائز— جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي حُسْنِ الظَّنِّ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَحُسْنِ الْخَاتِمَةِ باب: اللہ تعالیٰ کے بارے میں حسن ظن رکھنے اور حسن خاتمہ کا بیان
حدیث نمبر: 2983
عَنْ عُمَرَ الْجُمَعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا اسْتَعْمَلَهُ قَبْلَ مَوْتِهِ))، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: مَا اسْتَعْمَلَهُ؟ قَالَ: ((يَهْدِيهِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى الْعَمَلِ الصَّالِحِ قَبْلَ مَوْتِهِ ثُمَّ يَقْبِضُهُ عَلَى ذَلِكَ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عمر جمعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تووہ اسے استعمال کر لیتا ہے۔ قوم میں سے ایک آدمی نے پوچھا: اسے استعمال کرتا ہے، اس سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اسے موت سے پہلے اچھے عمل کی توفیق دے دیتا ہے، پھر اسے اسی حالت میں موت دے دیتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … لوگ راضی ہو کر اس کے بارے میں اچھی شہادت دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی شہادت کو قبول کر لیتے ہیں۔ ان احادیث سے بڑی عمر کے لوگوں کو فکر پیدا ہونی چاہیے، اس عمر کے زیادہ تر لوگ فارغ ہوتے ہیں، کوئی کام کاج نہیں ہوتا، اگر یہ لمحات اللہ تعالیٰ کے ذکرو اذکار اور دوسرے امورِ خیر میں گزر جائیں، تو ان احادیث کا مصداق بنا جا سکتا ہے۔ لیکن حقیقت ِ حال یہ ہے کہ سفید بال لوگوں کی مسجدوں میں قلت ہے، اب یہ لوگ بھی حقہ، تاش اور گپ شپ کی مجلسوں اور دوسری پنچائتوں کو ترجیح دینے لگ گئے ہیں۔