حدیث نمبر: 2980
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا يَمُوتَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ بِاللَّهِ الظَّنَّ، فَإِنَّ قَوْمًا قَدْ أَرْدَاهُمْ سُوءُ ظَنِّهِمْ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَذَلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِي ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ أَرْدَاكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ مِنَ الْخَاسِرِينَ}))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

(دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جس کسی کو بھی موت آئے تو اس حال میں آئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں اچھا گمان رکھتا ہو، ایک قوم کو اللہ تعالیٰ کے بارے میں ان کے سوئے ظن نے ہلاک کر دیا تھا، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: تمہاری اس بد گمانی نے جو تم نے اپنے رب سے کر رکھی تھی تمہیں ہلاک کر دیا اور بالآخر تم گھاٹا پانے والوں میں ہو گئے۔ (سورہ حم سجدۃ: ۲۳)

وضاحت:
فوائد: … اِن احادیث میں دراصل ناامیدی اور مایوسی سے ڈرایا گیا ہے اور اس امر پر رغبت دلائی گئی ہے کہ بندے کو اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ حسن ظن اور امید ہونی چاہیے کہ وہ رحم کرے گا اور بخش دے گا۔ لیکن یہ تنبیہ کرنا ضروری ہے کہ اس حسنِ ظن کے لیے بندے کے پاس اعمالِ صالحہ بھی ہونے چاہئیں، ان احادیث کا یہ معنی و مفہوم نہیں ہے کہ مسلمان نیک عمل ترک کر کے حسن ظن قائم کر لے، کیونکہ ان فرموداتِ نبویہ کے بلاواسطہ اور پہلے سامعین صحابۂ کرام تھے، ہمیں اس چیز پر غور کرنا ہو گا کہ اُن پاکیزہ ہستیوں نے کون سا رویہ اختیار کیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 2980
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح دون قوله: ((فان قوما قد أرداھم۔)) وھذا اسناد ضعيف لضعف النضر بن اسماعيل، وابنُ ابي ليلي سييء الحفظ وانظر الحديث بالطريق الأول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15197 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15267»