حدیث نمبر: 2978
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنْ شِئْتُمْ أَنْبَأْتُكُمْ مَا أَوَّلُ مَا يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَا أَوَّلُ مَا يَقُولُونَ لَهُ))، قُلْنَا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ((إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ لِلْمُؤْمِنِينَ هَلْ أَحْبَبْتُمْ لِقَاءِي؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ يَا رَبَّنَا، فَيَقُولُ لِمَ؟ فَيَقُولُونَ: رَجَوْنَا عَفْوَكَ وَمَغْفِرَتَكَ فَيَقُولُ قَدْ وَجَبَتْ لَكُمْ مَغْفِرَتِي))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہتے ہو تو میں تمہیں یہ بتلا دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اہل ایمان سے سب سے پہلے کیا فرمائے گا اور وہ اس کو کیا کہیں گے؟ ہم نے کہا: جی ہاں اے اللہ کے رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ مومنوں سے کہے گا: کیا تم میری ملاقات پسند کرتے تھے؟ وہ کہے گے: جی ہاں، اے ہمارے ربّ! اللہ تعالیٰ پوچھے گا: کیوں؟ وہ کہیں گے: ہم تیری معافی اور بخشش کی امید رکھتے تھے۔ پس وہ کہے گا: تمہارے لیے میری بخشش واجب ہو چکی ہے۔

وضاحت:
فوائد: … تمام احادیث اپنے مفہوم میں واضح ہیں، ہمیں چاہئے کہ مادیت پرستی، حبِّ دنیا، بے صبری اور دین میں عدم دلچسپی جیسے مصائب سے جان چھڑائیں اور اللہ تعالیٰ سے حقیقی تعلق پیدا کر کے اس کے پاس جانے کا شوق پیدا کریں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 2978
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، عبد الله بن زحر ضعيف، وأبو عياش المعافري لم يسمع من معاذ أخرجه الطيالسي: 564، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 20/ 251 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22072 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22422»