الفتح الربانی
كتاب الجنائز— جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ ذِكْرِ الْمَوْتِ وَالِاسْتِعْدَادِ لَهُ وَتَرْغِيبِ الْمُؤْمِنِينَ فِيهِ باب: موت کو یاد رکھنے، اس کے لیے تیار رہنے اور اہل ایمان کو اس سلسلے میں ترغیب دلانا
حدیث نمبر: 2977
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ وَزَادَتْ: وَالْمَوْتُ قَبْلَ لِقَاءِ اللَّهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُسی طرح کی حادیث مروی ہے، اس میں یہ الفاظ زیادہ ہیں: اور موت کا معاملہ تو اللہ تعالیٰ کی ملاقات والے مسئلہ سے پہلے کا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ان زائد الفاظ سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ملاقات سے مراد موت نہیں ہے، جیسا کہ بعض لوگ سمجھ رہے تھے۔ موت سے ڈرنا اور اس کو ناپسند کرنا اور بات ہے اور عالَم نزع میں اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو پسند کرنا اور بات ہے۔