الفتح الربانی
كتاب الجنائز— جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ ذِكْرِ الْمَوْتِ وَالِاسْتِعْدَادِ لَهُ وَتَرْغِيبِ الْمُؤْمِنِينَ فِيهِ باب: موت کو یاد رکھنے، اس کے لیے تیار رہنے اور اہل ایمان کو اس سلسلے میں ترغیب دلانا
عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ: كَانَ أَوَّلُ يَوْمٍ عَرَفْتُ فِيهِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى رَأَيْتُ شَيْخًا أَبْيَضَ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ عَلَى حِمَارٍ وَهُوَ يَتْبَعُ جَنَازَةً فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ، حَدَّثَنِي فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ))، قَالَ: فَأَكَبَّ الْقَوْمُ يَبْكُونَ، فَقَالَ: ((مَا يُبْكِيكُمْ؟)) فَقَالُوا: إِنَّا نَكْرَهُ الْمَوْتَ، قَالَ: ((لَيْسَ ذَلِكَ وَلَٰكِنَّهُ إِذَا حُضِرَ، {فَأَمَّا إِنْ كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ، فَرَوْحٌ وَرَيْحَانٌ وَجَنَّةُ نَعِيمٍ} فَإِذَا بُشِّرَ بِذَلِكَ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ وَاللَّهُ لِلِقَاءِهِ أَحَبُّ، {وَأَمَّا إِنْ كَانَ مِنَ الْمُكَذِّبِينَ الضَّالِّينَ، فَنُزُلٌ مِنْ حَمِيمٍ} قَالَ عَطَاءٌ (يَعْنِي ابْنَ السَّائِبِ) وَفِي قِرَاءَةِ ابْنِ مَسْعُودٍ: {ثُمَّ تَصْلِيَةُ جَحِيمٍ} فَإِذَا بُشِّرَ بِذَلِكَ يَكْرَهُ لِقَاءَ اللَّهِ وَاللَّهُ لِلقَاءِهِ أَكْرَهُ))عطاء بن سائب کہتے ہیں: پہلا دن، جس میں عبدالرحمن بن ابی لیلی سے میری معرفت ہوئی، اس میں یوں ہوا کہ میں نے گدھے پر سوار ایک بزرگ دیکھا، اس کے سر اور داڑھی کے بال سفید تھے اور وہ ایک جنازے کے پیچھے چل رہا تھا اور یہ بیان کر رہا تھا: مجھے فلاں بن فلاں صحابی نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملنا پسند کرتا ہے، اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنا پسند کرتا ہے۔ یہ سن کر لوگ رونے لگ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: تم روتے کیوں ہو؟ لوگوں نے کہا: ہم سب موت کو ناپسند کرتے ہیں (اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم اللہ تعالیٰ سے ملنے کو پسند نہیں کرتے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بات اس طرح نہیں ہے، جب کسی کی موت قریب آجاتی ہے تو اگر وہ اللہ تعالیٰ کے مقرّب بندوں میں سے ہوتا ہے تو اس کے لیے راحت، خوشبو اور نعمتوں والا باغ ہوتا ہے، اس لیے جب اسے ان چیزوں کی بشارت دی جاتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو پسند کرنے لگتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی ملاقات کو زیادہ چاہنے والا ہوتا ہے۔لیکن اگر وہ شخص جھٹلانے والے گمراہوں میں سے ہوتا ہے تو اس کی میزبانی کھولتا ہوا پانی ہوتا ہے اور پھر بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہونا ہوتا ہے، اس لیے جب اسے ان چیزوں کی بشارت سنائی جاتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو ناپسند کرنے لگتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اس کی ملاقات کو بہت ناپسند کرنے والا ہوتا ہے۔