حدیث نمبر: 2971
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَصُرَ بِجَمَاعَةٍ، فَقَالَ: ((عَلَامَ اجْتَمَعَ عَلَيْهِ هَؤُلَاءِ؟)) قِيلَ: عَلَى قَبْرٍ يَحْفِرُونَهُ، قَالَ: فَفَزِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَبَدَرَ بَيْنَ يَدَيْ أَصْحَابِهِ مُسْرِعًا حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْقَبْرِ فَجَثَا عَلَيْهِ، قَالَ: فَاسْتَقْبَلْتُهُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ أَنْظُرُ مَا يَصْنَعُ فَبَكَى حَتَّى بَلَّ الثَّرَى مِنْ دُمُوعِهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا قَالَ: ((أَيُّ إِخْوَانِي لِمِثْلِ الْيَوْمِ فَأَعِدُّوا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، اچانک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک جگہ لوگوں کو جمع دیکھا اور پوچھا: یہ لوگ کیوں اور کس چیز پر جمع ہیں؟ کسی نے کہا: یہ ایک قبر پر جمع ہیں، اسے کھود رہے ہیں۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پریشان ہو گئے اور اپنے صحابہ کے آگے آگے جلدی جلدی لپکے اور قبر کے پاس کر گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے، میں آپ کے سامنے آیا تاکہ دیکھ سکوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر روئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آنسوئوں سے زمین تر ہو گئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: میرے بھائیو! اس دن کے لیے تیاری کرو۔

وضاحت:
فوائد: … اہل ایمان کو چاہئے کہ وہ موت کو ہر وقت یاد رکھیں اور اس سے غافل نہ ہوں، لیکن مسلمانوں کی بھاری تعداد موت اور موت کے بعد والے مراحل سے عملی طور پر غافل نظر آتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 2971
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف محمد بن مالك الجوزجاني أخرجه ابن ماجه: 4195 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18601 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18802»