الفتح الربانی
أبواب العيدين * وما يتعلق بهما من صلاة وغيرها— عیدین اور ان کے متعلقہ امور مثلا نماز وغیرہ کے ابواب
بَابُ الضَّرْبِ بِالدُّفِّ وَاللَّعِبِ يَوْمَ الْعِيدِ باب: عید کے دن د ف بجانے اور کھیلنے کا بیان
حدیث نمبر: 2878
عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي حُسَيْنٍ قَالَ: كَانَ يَوْمٌ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ يَلْعَبُونَ فَدَخَلْتُ عَلَى الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ بْنِ عَفْرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَعَدَ عَلَى مَوْضِعِ فِرَاشِي هَٰذَا وَعِنْدِي جَارِيَةٌ تَنْدُبُ أَبَوَيَّ الَّذَيْنِ قُتِلَا يَوْمَ بَدْرٍ تَضْرِبُ بِالدُّفِّ، وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً: بِالدُّفُوفِ فَقَالَتَا فِيمَا تَقُولَانِ: وَفِينَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا يَكُونُ فِي غَدٍ، فَقَالَ: ((أَمَّا هَٰذَا فَلَا تَقُولَاهُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابوحسین کہتے ہیں: مدینے والوں کے لیے ایک دن ہوتا تھا، اس میں وہ کھیلتے تھے، میں سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ پر داخل ہوئے اور میرے اس بستر پر بیٹھ گئے، جبکہ میرے پاس دو بچیاں تھیں، جو دف بجا کر بدر میں شہید ہونے والے ہمارے آباء کے اوصاف بیان کر رہی تھیں۔ اتنے میں وہ یہ بھی کہنے لگیں: اور ہم میں ایک ایسا نبی ہے جو کل کی بات بھی جانتا ہے۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بات نہ کہو۔