الفتح الربانی
أبواب العيدين * وما يتعلق بهما من صلاة وغيرها— عیدین اور ان کے متعلقہ امور مثلا نماز وغیرہ کے ابواب
بَابُ الضَّرْبِ بِالدُّفِّ وَاللَّعِبِ يَوْمَ الْعِيدِ باب: عید کے دن د ف بجانے اور کھیلنے کا بیان
حدیث نمبر: 2877
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا أَبُو بَكْرٍ فِي يَوْمِ عِيدٍ وَعِنْدَنَا جَارِيَتَانِ تَذْكُرَانِ يَوْمَ بُعَاثَ، يَوْمٌ قُتِلَ فِيهِ صَنَادِيدُ الْأَوْسِ وَالْخَزْرَجِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: عِبَادَ اللَّهِ أَمُزْمُورُ الشَّيْطَانِ؟ عِبَادَ اللَّهِ أَمُزْمُورُ الشَّيْطَانِ؟ عِبَادَ اللَّهِ أَمُزْمُورُ الشَّيْطَانِ؟ قَالَهَا ثَلَاثًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَا أَبَا بَكْرِ إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا، وَإِنَّ الْيَوْمَ عِيدُنَا))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) وہ کہتی ہیں: سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ عید والے دن ہمارے پاس آئے، جبکہ ہمارے پاس دو بچیاں یومِ بُعَاث کاذکر کر رہی تھیں، اوس اور خزرج کے سردار اس دن قتل کیے گئے تھے۔ پس سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کے بندو! کیا شیطان کی بانسری؟اللہ کے بندو!کیا شیطان کی بانسری؟ اللہ کے بندو! کیا (یہاں پر) شیطان کی بانسری۔تین مرتبہ یہ بات کہی، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر! بے شک ہر قوم کے لیے ایک عید ہوتی ہے اور آج ہماری عید ہے۔