الفتح الربانی
أبواب العيدين * وما يتعلق بهما من صلاة وغيرها— عیدین اور ان کے متعلقہ امور مثلا نماز وغیرہ کے ابواب
بَابُ الضَّرْبِ بِالدُّفِّ وَاللَّعِبِ يَوْمَ الْعِيدِ باب: عید کے دن د ف بجانے اور کھیلنے کا بیان
حدیث نمبر: 2876
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَيْهَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا يَوْمَ فِطْرٍ أَوْ أَضْحَى وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ تَضْرِبَانِ بِدُفَّيْنِ فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((دَعْنَا يَا أَبَا بَكْرِ! إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا، وَإِنَّ عِيدَنَا هَٰذَا الْيَوْمُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: سیّدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی میرے پاس تھے اور دو لڑکیاں دف بجا رہی تھیں، یہ عید الفطر یا عید الاضحی کا دن تھا، پس انھوں نے ان کو ڈانٹا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر! ہمیں چھوڑ دو، بے شک ہر قوم کے لیے عید ہوتی ہے اور آج ہماری عید ہے۔