حدیث نمبر: 2875
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ فِي أَيَّامِ مِنًى تَضْرِبَانِ بِدُفَّيْنِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُسَجًّى عَلَيْهِ بِثَوْبِهِ فَانْتَهَرَهُمَا فَكَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَجْهَهُ فَقَالَ: ((دَعْهُمَا يَا أَبَا بَكْرِ! فَإِنَّهَا أَيَّامُ عِيدٍ))، وَقَالَتْ عَائِشَةُ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْحَبَشَةِ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى أَكُونَ أَسْأَمُ فَأَقْعُدُ، فَاقْدُرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ الْحَرِيصَةِ عَلَى اللَّهْوِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: سیّدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے، جبکہ دو لڑکیاں دف بجا رہی تھیں، یہ مِنٰی والے دن تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کپڑا لپیٹا ہوا تھا، سیّدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان کو ڈانٹا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چہرے سے چادر کو ہٹایا اور فرمایا: ابو بکر! ان کو چھوڑ دو، یہ عید کے دن ہیں۔ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنی چادر کے ذریعے میرا پردہ کرتے اور میں مسجد میں کھیلنے والے حبشیوں کو دیکھتی رہتی، حتی کہ میں ہی اکتا کر بیٹھ جاتی۔ تم لوگوں کو کم سن اور حریص لڑکی کی قدرت ومنزلت کا اندازہ لگا لینا چاہیے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب العيدين * وما يتعلق بهما من صلاة وغيرها / حدیث: 2875
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 949، 950، 987، 988، 3529، 3530، ومسلم: 892، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24541 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25048»