الفتح الربانی
أبواب العيدين * وما يتعلق بهما من صلاة وغيرها— عیدین اور ان کے متعلقہ امور مثلا نماز وغیرہ کے ابواب
بَابُ الصَّلَاةِ قَبْلَ الْعِيدِ وَبَعْدَهَا باب: ’’سیّدناعبد اللہ بن عمر عید والے دن نکلے اور نمازِ عید سے پہلے یا بعد میں کوئی نفلی نماز نہ پڑھی، پھر انھوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی کیا تھا۔‘‘
حدیث نمبر: 2872
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي فِطْرٍ لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ وَمَعَهُ بِلَالٌ فَجَعَلَ يَقُولُ: ((تَصَدَّقْنَ)) فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي خُرْصَهَا وَسِخَابَهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عیدالفطر کے دن نکلے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے اور بعد میں کوئی نماز نہ پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عورتوں کے پاس آئے، جبکہ سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو یہ فرمانے لگ گئے: صدقہ کرو۔ پس عورت نے اپنا چھلا اور ہار (سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں) ڈالنا شروع کر دیا۔