الفتح الربانی
أبواب العيدين * وما يتعلق بهما من صلاة وغيرها— عیدین اور ان کے متعلقہ امور مثلا نماز وغیرہ کے ابواب
بَابُ خُطْبَةِ الْعِيدَيْنِ وَأَحْكَامِهَا وَوَعْظِ النِّسَاءِ وَحَثِّهِنَّ عَلَى الصَّدَقَةِ باب: عیدین کے خطبہ اور اس کے احکامات کا بیان، اور عورتوں کو وعظ کرنے¤اور ان کو صدقہ کرنے پر ابھارنے کا بیان
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْعِيدِ فِي الْفِطْرِ (وَفِي رِوَايَةٍ وَالْأَضْحَى) فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ تَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ ثُمَّ يَتَقَدَّمُ فَيَسْتَقْبِلُ النَّاسَ وَهُمْ جُلُوسٌ فَيَقُولُ: ((تَصَدَّقُوا، تَصَدَّقُوا، تَصَدَّقُوا)) ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: فَكَانَ أَكْثَرَ مَا يَتَصَدَّقُ مِنَ النَّاسِ النِّسَاءُ بِالْقُرْطِ وَالْخَاتَمَ وَالشَّيْءِ، فَإِنْ كَانَ لَهُ حَاجَةٌ فِي الْبَعْثِ ذَكَرَهُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ انْصَرَفَ (وَفِي رِوَايَةٍ) وَإِنْ كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَضْرِبَ عَلَى النَّاسِ بَعْثًا ذَكَرَهُ وَإِلَّا انْصَرَفَسیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحی کے دن نکلتے،لوگوں کو عید کی دو رکعت نماز پڑھاتے، پھر آگے بڑھتے اور لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے، جبکہ لوگ بیٹھے ہوتے، پھر فرماتے: صدقہ کرو، صدقہ کرو، صدقہ کرو۔ لوگوں میں سب سے زیادہ عورتیں اپنی بالیوں، انگوٹھیوں اور دوسری چیزوں کی صورت میں صدقہ کرتیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اگر کوئی لشکر بھیجنے کی ضرورت ہوتی تو اس کا ذکر کرتے، اور اگر ایسی کوئی صورت نہ ہوتی تو واپس پلٹ جاتے۔