الفتح الربانی
أبواب العيدين * وما يتعلق بهما من صلاة وغيرها— عیدین اور ان کے متعلقہ امور مثلا نماز وغیرہ کے ابواب
بَابُ خُطْبَةِ الْعِيدَيْنِ وَأَحْكَامِهَا وَوَعْظِ النِّسَاءِ وَحَثِّهِنَّ عَلَى الصَّدَقَةِ باب: عیدین کے خطبہ اور اس کے احکامات کا بیان، اور عورتوں کو وعظ کرنے¤اور ان کو صدقہ کرنے پر ابھارنے کا بیان
حدیث نمبر: 2862
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ (بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((تَصَدَّقْنَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ! وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ))، فَقَامَتِ امْرَأَةٌ لَيْسَتْ مِنْ عِلْيَةِ النِّسَاءِ فَقَالَتْ: لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ((لِأَنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کیا کرو، اگرچہ اپنے زیورات میں سے ہو، کیونکہ تم میں سے اکثر آگ والیاں ہیں۔ ایک عورت، جو اشراف عورتوں میں سے نہیں تھی، کھڑی ہوئی اور اس نے کہا:اے اللہ کے رسول! اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس لیے کہ تم لعن طعن (اور گالی گلوچ) بہت کرتی ہو اور خاوندوں کی ناشکری کرتی ہو۔