حدیث نمبر: 2861
عَنْ جَابِرِ (بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: شَهِدْتُ الصَّلَاةَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ عِيدٍ فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَامَ مُتَوَكِّئًا عَلَى بِلَالٍ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَوَعَظَ النَّاسَ وَذَكَّرَهُمْ وَحَثَّهُمْ عَلَى طَاعَتِهِ، ثُمَّ مَضَى إِلَى النِّسَاءِ وَمَعَهُ بِلَالٌ فَأَمَرَهُنَّ بِتَقْوَى اللَّهِ وَوَعَظَهُنَّ وَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَحَثَّهُنَّ عَلَى طَاعَتِهِ، ثُمَّ قَالَ: ((تَصَدَّقْنَ فَإِنَّ أَكْثَرَكُنَّ حَطَبُ جَهَنَّمَ))، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْ سَفْلَةِ النِّسَاءِ سَفْعَاءُ الْخَدَّيْنِ: لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ((لِأَنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ الشَّكَاءَ وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ))، فَجَعَلْنَ يَنْزِعْنَ حُلِيَّهُنَّ وَقَلَائِدَهُنَّ وَقِرَطَتَهُنَّ وَخَوَاتِيمَهُنَّ يَقْذِفْنَ بِهِ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ يَتَصَدَّقْنَ بِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں عید کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز میں موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اذان و اقامت کے بغیر خطبہ سے پہلے نمازسے آغاز کیا، تکمیلِ نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوگئے، اللہ کی حمد و ثناء بیان کی اور لوگوں کو وعظ و نصیحت کی اور ان کو اپنی اطاعت کرنے پر رغبت دلائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عورتوں کی طرف چلے گئے، جبکہ سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اللہ سے ڈرنے کا حکم دیا اور مزید وعظ و نصیحت کی، وہاں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کی حمد و ثناء بیان کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اپنی اطاعت پر آمادہ کیا اور پھر فرمایا: صدقہ کیا کرو،پس بے شک تم میں سے اکثر خواتین جہنم کا ایندھن ہیں۔ نچلے درجے کی عورتوں میں سے ایک سیاہ رخساروں والی عورت نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس لیے کہ تم شکوہ بہت کرتی ہو، اور خاوندوں کی ناشکری کرتی ہو۔ اس کے بعد عورتیں شروع ہوئیں اور صدقہ کرنے کے لیے اپنے زیورات، ہار، بالیاں اور انگوٹھیاں اتار اتار کر سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں پھینکنے لگیں۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب العيدين * وما يتعلق بهما من صلاة وغيرها / حدیث: 2861
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 958، 961 و مسلم: 885 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14163، 14420 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14473»