الفتح الربانی
أبواب العيدين * وما يتعلق بهما من صلاة وغيرها— عیدین اور ان کے متعلقہ امور مثلا نماز وغیرہ کے ابواب
بَابُ صَلَاةِ الْعِيدِ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ وَاتِّخَاذِ سُتْرَةٍ أَمَامَ الْإِمَامِ فِي الْمُصَلَّى باب: خطبہ سے قبل اذان و اقامت کے بغیر نماز عید کے دو رکعت کے ہونے کا¤اور عیدگاہ میں امام کے سامنے سترہ رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 2850
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْعِيدَيْنِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ ثُمَّ خَطَبَنَا ثُمَّ نَزَلَ فَمَشَى إِلَى النِّسَاءِ وَمَعَهُ بِلَالٌ لَيْسَ مَعَهُ غَيْرُهُ، فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي تُومَتَهَا وَخَاتَمَهَا إِلَى بِلَالٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اذان و اقامت کے بغیر ہمیں عیدین کی نماز پڑھائی، پھر ہمیں خطبہ دیا، اس کے بعد نیچے آ گئے اور عورتوں کی طرف چلے گئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ صرف سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ تھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو صدقہ کرنے کا حکم دیا، سو عورتوں نے بالیوں کے دانے اور موتی اور انگوٹھیاں سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ کی طرف ڈالنا شروع کر دیں ۔‘‘