الفتح الربانی
أبواب العيدين * وما يتعلق بهما من صلاة وغيرها— عیدین اور ان کے متعلقہ امور مثلا نماز وغیرہ کے ابواب
بَابُ صَلَاةِ الْعِيدِ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ وَاتِّخَاذِ سُتْرَةٍ أَمَامَ الْإِمَامِ فِي الْمُصَلَّى باب: خطبہ سے قبل اذان و اقامت کے بغیر نماز عید کے دو رکعت کے ہونے کا¤اور عیدگاہ میں امام کے سامنے سترہ رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 2847
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَشْهَدْتَّ الْعِيدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلَوْ لَا مَكَانِي مِنْهُ مَا شَهِدْتُّهُ لِصِغَرِي، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى عِنْدَ دَارِ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ خَطَبَ لَمْ يَذْكُرْ أَذَانًا وَلَا إِقَامَةًترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبد الرحمن بن عابس کہتے ہیں:میں نے سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ عید میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ موجود تھے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں اور اگر میرا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک مقام و مرتبہ نہ ہوتا تو میں کم سنی کی وجہ سے حاضر نہ ہو سکتا، پھر انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلے اور کثیر بن صلت کے گھر کے پاس دو رکعتیں ادا کیں اور پھر خطبہ ارشاد فرمایا۔ انھوں نے اذان و اقامت کا ذکر نہیں کیا۔