حدیث نمبر: 2847
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَشْهَدْتَّ الْعِيدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلَوْ لَا مَكَانِي مِنْهُ مَا شَهِدْتُّهُ لِصِغَرِي، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى عِنْدَ دَارِ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ خَطَبَ لَمْ يَذْكُرْ أَذَانًا وَلَا إِقَامَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

عبد الرحمن بن عابس کہتے ہیں:میں نے سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ عید میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ موجود تھے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں اور اگر میرا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک مقام و مرتبہ نہ ہوتا تو میں کم سنی کی وجہ سے حاضر نہ ہو سکتا، پھر انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلے اور کثیر بن صلت کے گھر کے پاس دو رکعتیں ادا کیں اور پھر خطبہ ارشاد فرمایا۔ انھوں نے اذان و اقامت کا ذکر نہیں کیا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب العيدين * وما يتعلق بهما من صلاة وغيرها / حدیث: 2847
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 863، 977، 5249 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3487 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2062»