الفتح الربانی
أبواب العيدين * وما يتعلق بهما من صلاة وغيرها— عیدین اور ان کے متعلقہ امور مثلا نماز وغیرہ کے ابواب
بَابُ صَلَاةِ الْعِيدِ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ وَاتِّخَاذِ سُتْرَةٍ أَمَامَ الْإِمَامِ فِي الْمُصَلَّى باب: خطبہ سے قبل اذان و اقامت کے بغیر نماز عید کے دو رکعت کے ہونے کا¤اور عیدگاہ میں امام کے سامنے سترہ رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 2845
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ يَوْمَ فِطْرٍ رَكْعَتَيْنِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ ثُمَّ خَطَبَ بَعْدَ الصَّلَاةِ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِ بِلَالٍ فَانْطَلَقَ إِلَى النِّسَاءِ فَخَطَبَهُنَّ ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا بَعْدَ مَا قَفَّى مِنْ عِنْدِهِنَّ أَنْ يَأْتِيَهُنَّ فَيَأْمُرَهُنَّ أَنْ يَتَصَدَّقْنَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو اذان و اقامت کے بغیر عید الفطر کی دو رکعتیں پڑھائیں، پھر نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور عورتوں کی طرف چلے گئے اور ان کو خطاب کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں سے چلے گئے اور سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ ان کے پاس جائے اور ان کو صدقہ کرنے کا حکم دے۔