الفتح الربانی
أبواب العيدين * وما يتعلق بهما من صلاة وغيرها— عیدین اور ان کے متعلقہ امور مثلا نماز وغیرہ کے ابواب
بَابُ صَلَاةِ الْعِيدِ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ وَاتِّخَاذِ سُتْرَةٍ أَمَامَ الْإِمَامِ فِي الْمُصَلَّى باب: خطبہ سے قبل اذان و اقامت کے بغیر نماز عید کے دو رکعت کے ہونے کا¤اور عیدگاہ میں امام کے سامنے سترہ رکھنے کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ فِي الْعِيدِ ثُمَّ خَطَبَ فَرَأَى أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعِ النِّسَاءَ فَأَتَاهُنَّ فَذَكَّرَهُنَّ وَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي الْخُرْصَ وَالْخَاتَمَ وَالشَّيْءَسیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر شہادت دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عیدمیں خطبہ سے پہلے نماز پڑھی ہے، پھر خطبہ ارشاد فرمایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ خیال ہوا کہ عورتیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز نہیں سن سکیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس آئے، ان کو وعظ و نصیحت کی اور ان کو صدقہ کرنے کا حکم دیا، پس عورتوں نے اپنی بالیاں، انگوٹھیاں اور دوسری چیزیں (سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ کی جھولی میں) ڈالنا شروع کر دیں۔