الفتح الربانی
أبواب العيدين * وما يتعلق بهما من صلاة وغيرها— عیدین اور ان کے متعلقہ امور مثلا نماز وغیرہ کے ابواب
بَابُ اسْتِحْبَابِ الْأَكْلِ قَبْلَ الْخُرُوجِ فِي الْفِطْرِ دُونَ الْأَضْحَى - وَالْكَلَامِ عَلَى وَقْتِ الصَّلَاةُ فِيهِمَا باب: عید الفطر کے موقع پر نکلنے سے پہلے کھانے کا مستحب ہونا، نہ کہ عید الاضحی میں¤اور ان دونوں میں نماز کے وقت پر کلام کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2841
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: مَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ فِطْرٍ قَطُّ حَتَّى يَأْكُلَ تَمَرَاتٍ، قَالَ: وَكَانَ أَنَسٌ يَأْكُلُ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ ثَلَاثًا، فَإِنْ أَرَادَ أَنْ يَزْدَادَ أَكَلَ خَمْسًا، فَإِنْ أَرَادَ أَنْ يَزْدَادَ أَكَلَ وِتْرًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید الفطر کے دن (عید گاہ کی طرف) نہیں جاتے تھے، مگر کھجوریں کھا کر۔ سیّدنا انس رضی اللہ عنہ خود نکلنے سے پہلے تین کھجوریں کھاتے تھے، اگر زیادہ کھانے کا ارادہ ہوتا تو پانچ کھاتے اور اگر اس سے بھی زیادہ کا ارادہ ہوتا تو طاق کھاتے۔