الفتح الربانی
أبواب العيدين * وما يتعلق بهما من صلاة وغيرها— عیدین اور ان کے متعلقہ امور مثلا نماز وغیرہ کے ابواب
بَابُ اسْتِحْبَابِ الْأَكْلِ قَبْلَ الْخُرُوجِ فِي الْفِطْرِ دُونَ الْأَضْحَى - وَالْكَلَامِ عَلَى وَقْتِ الصَّلَاةُ فِيهِمَا باب: عید الفطر کے موقع پر نکلنے سے پہلے کھانے کا مستحب ہونا، نہ کہ عید الاضحی میں¤اور ان دونوں میں نماز کے وقت پر کلام کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2837
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُفْطِرُ يَوْمَ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ، وَكَانَ لَا يُصَلِّي قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَإِذَا قَضَى صَلَاتَهُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عیدالفطر والے دن نکلنے سے پہلے ناشتہ کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز عید سے قبل کوئی نفل نماز نہیں پڑھتے تھے، جب (عید کی) نماز پڑھ لیتے تو (گھر لوٹ کر) دو رکعت پڑھتے تھے۔