الفتح الربانی
أبواب العيدين * وما يتعلق بهما من صلاة وغيرها— عیدین اور ان کے متعلقہ امور مثلا نماز وغیرہ کے ابواب
بَابُ اسْتِحْبَابِ الْأَكْلِ قَبْلَ الْخُرُوجِ فِي الْفِطْرِ دُونَ الْأَضْحَى - وَالْكَلَامِ عَلَى وَقْتِ الصَّلَاةُ فِيهِمَا باب: عید الفطر کے موقع پر نکلنے سے پہلے کھانے کا مستحب ہونا، نہ کہ عید الاضحی میں¤اور ان دونوں میں نماز کے وقت پر کلام کرنے کا بیان
عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَنْبَأَنَا عَطَاءٌ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَطْعَمَ فَلْيَفْعَلْ، قَالَ: فَلَمْ أَدَعْ أَنْ آكُلَ قَبْلَ أَنْ أَغْدُوَا مُنْذُ سَمِعْتُ ذَلِكَ مِنَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَآكُلُ مِنْ طَرَفِ الصَّرِيقَةِ الْأُكْلَةَ أَوْ أَشْرَبُ اللَّبَنَ أَوِ الْمَاءَ، قُلْتُ: فَعَلَامَ يُؤَوَّلُ هَٰذَا؟ قَالَ: سَمِعَهُ أَظُنُّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانُوا لَا يَخْرُجُونَ حَتَّى يَمْتَدَّ الضُّحَى فَيَقُولُونَ نَطْعَمُ لِئَلَّا نَعْجَلَ عَنْ صَلَاتِنَاعطاء کہتے ہیں: میں نے سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: اگر تمہیں طاقت ہو کہ تم عید الفطر کے موقع پر کچھ کھا کر ہی جا ؤ تو ایسے ہی کیا کرو۔ جب سے میں نے یہ بات ان سے سنی، اس وقت سے صبح جانے سے پہلے کھانا کھانا ترک نہ کیا، وہ روٹی کا لقمہ ہو جاتا یا دودھ یا پانی پی لیتا۔ ابن جریج نے عطاء سے سوال کیا: سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے اس قول کی کیا تاویل کی جائے گی؟ انھوں نے کہا: میرا تو یہی خیال ہے کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہو گا۔وہ اس وقت تک نہیں نکلتے تھے، جب تک روشنی لمبی نہ ہو جاتی تھی، یعنی دن چڑھ نہ آتا تھا، اور وہ کہتے تھے کہ وہ اس لیے کھانا کھاتے ہیں، تاکہ نماز سے جلدی نہ کرنی پڑے۔